جس تن نوں لگدی او تن جانڈے
جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر11
یونی سے واپس آ کر بھی وہ اداس رہی لیکن ماما بابا کی وجہ سے کنٹرول کر گئی ۔۔۔۔ رات کو اپنے کمرے میں آ کر ضبط ٹوٹ گیا ۔۔۔۔ اسے لگ رہا تھا جیسے ولید اسے بہت دور جا رہا ہے ۔۔۔ اس نے نماز پڑھ کے دیر تک اپنے "ولی " کے لئے دعا کی ۔۔۔اور پر سکون ہو گئی ۔۔۔ "تجھے محتاط کرتا ہوں تیری میں جان لے لوں گا کبھی ان جھیل آنکھوں کو جو پر نم کیا تو نے " انہیں کیسے پتا کہ میں رو رہی ہوں ۔۔۔۔ وہ ولید کا میسج پڑھ کر حیران ہوئی ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ پوچھتی ولید کی کال آ گئی ۔۔۔ "ہیلو۔۔۔ولید " وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی "جی جان ولید " آج ولید حسن ہر جذبہ اس کے سامنے رکھ دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔ حالانکہ وہ ایسا نہیں تھا ۔۔۔۔ نہ کبھی ایسا کرتا تھا ۔۔۔ پھر پتا نہیں کیوں آج ایسا بن گیا تھا ۔۔۔ "جلدی واپس آئیں گے نا " زجاجہ نے آنسو کنٹرول کرتے ہوئے پوچھا "بہت جلد ۔۔۔۔ اب کی بار تو خود کو بھی جلدی ہو گی نا آنے کی " ولید نے اسے اس کی اہمیت جتائی ۔۔۔۔۔ " اب سو جاؤ ۔۔۔ اینڈ ریلیکس ۔۔۔ گڈ گرل گڈ نائٹ " "گڈ نائٹ " زجاجہ نے فون بند کر دیا اور لیٹ گئی ۔۔۔ لیکن نیند کوسوں دور بھی نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولید چلا گیا تھا ۔۔۔۔ مسز یزدانی کے پاس نقاش اور اس کی امی آ گئے تھے ۔۔۔ سکول میں بھی سب ویسا ہی چل رہا تھا ۔۔۔۔ یونی میں بھی ویسی ہی روٹین تھی لیکن زجاجہ کا دل کہیں نہیں لگتا تھا ۔۔۔۔بیا اس کو بہت سمجھاتی ۔۔۔۔ مگر اس کے لئے ایک ایک پل قیامت تھا ۔۔۔ وہ یونی کے گراونڈ میں بیٹھی گھاس سے کھیل رہی تھی کہ حیدر آ گیا ۔۔۔۔ "ادھر اکیلی کیوں بیٹھی ہو زجی " اس نے پاس آ کر پوچھا "ویسے ہی ۔۔۔۔ بیا اور ثنا کیفے تک گئیں ہیں " وہ حیدر کی طرف دیکھ کر بولی حیدر کو وہ بہت اداس لگی ۔۔۔۔ اسے اپنی معصوم سی دوست پہ بہت پیار آیا ۔۔۔ "چلو اٹھو ۔۔۔۔ ہم بھی چلتے ہیں " وہ اس کی کتابیں اٹھاتے ہوئے بولا ۔۔۔ "اور کوئی بہانہ نہیں سنوں گا میں " زجاجہ کو اٹھتے ہی بنی ۔۔۔۔ حیدر ایسا ہی تھا ۔۔۔سب کا خیال رکھنے والا ۔۔۔۔ بہت خوبصورت دل رکھنے والا خوبصورت انسان ۔۔۔۔ کیفے میں سب کے ساتھ اس کا دل کافی حد تک بہل گیا۔۔۔۔ وقاص اور حیدر کی شرارتیں ، ثنا کی وقاص کے ساتھ بحث ، بیا کی وقاص کے حق میں ووٹ ۔۔۔۔ سب کچھ ویسا ہی تھا ۔۔۔۔ اگر کچھ نہیں تھا تو انگلش ڈیپارٹمنٹ کی کار پارکنگ میں بلیک کلر کی کرولا نہیں تھی اور اسی ڈیپارٹمنٹ کا لیکچرر ولید حسن نہیں تھا ۔۔۔۔ "مس یو سو مچ ولی " زجاجہ نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے ہواؤں کو سندیسہ دیا ۔۔۔۔ اور مڑ کر ایک نظر انگلش ڈیپارٹمنٹ کی طرف دیکھا ۔۔۔ "جلدی آؤ زجاجہ ۔۔۔ " بیا نے آواز لگائی تو وہ سر جھکا کر چل پڑی ۔۔۔۔ حیدر اپنی بائیک سٹارٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔ ثنا اور وقاص جا چکے تھے ۔۔۔۔۔ وہ حیدر کو اللہ حافظ بول کر چلی ہی تھی کہ حیدر نے آواز دی ۔۔۔۔ بیا آگے جا چکی تھی ۔۔۔ "ہاں جی " وہ پیچھے مڑی "بی بریو ۔۔۔۔ سر ولید جلدی آ جائیں گے"۔۔۔۔ وہ کہتا ہوا بائیک اڑا لے گیا ۔۔۔۔ اور زجاجہ سکندر حیران کھڑی رہ گئی ۔۔۔۔ "اس کو کس نے بتایا " ۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اس نے مسکراتے ہوئے میسج ٹائپ کیا ۔۔۔ "تھینکس فار بیئنگ مائی فرینڈ " اس نے حیدر کے نمبر پر میسج سینڈ کیا اور تیز تیز قدموں سے چل پڑی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موسم ابر آلود تھا ۔۔۔۔ ماما بابا تایا ابو کی طرف گئے ہوئے تھے ۔۔۔۔ زجاجہ نے اپنے لئے چائے بنائی اور کپ اٹھا کر لان میں آ گئی ۔۔۔۔ ولید کو گئے دوسرا دن تھا لیکن زجاجہ کو لگ رہا تھا کہ صدیاں ہو گئیں اس نے ولید کو نہیں دیکھا ۔۔۔۔ اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور وٹس ایپ میسنجر کھول کر ولید کی تصویر دیکھنے لگی ۔۔۔۔ وہ شاید کسی تقریب کی تصویر تھی ۔۔۔۔ ولید نے وائٹ شرٹ کے ساتھ انک بلو پینٹ کوٹ پہن رکھا تھا ۔۔۔۔ اور اگلی نشستوں میں سے ایک پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔ ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے وہ سامنے دیکھتے ہوۓ بولنے والے کو بہت غور سے سن رہا تھا ۔۔۔۔ چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی ۔۔۔۔ وہ ہر طرح سے ایک بزنس آئیکون لگ رہا تھا ۔۔۔۔ "مائی ہینڈسم آفیسر " زجاجہ نے زیرلب کہا اور میسج ٹائپ کرنا شروع کر دیا ۔۔۔ "ولید صاحب " ۔۔۔۔ وہ پہلا میسج ہمیشہ یہی کرتی تھی ۔۔۔۔ ولید اکثر کہتا "پتا ہے زجی تمہارا یہ میسج ملتا ہے تو میں جواب نہ دینا چاہوں تو بھی دینے کا دل کرتا ہے " ۔۔۔۔ "حاضر میم " کچھ لمحوں بعد جواب آیا ۔۔۔ "کیا کر رہے ہیں " اس نے فورا دوسرا میسج بھیجا ۔۔۔ "مچ بزی یار ۔۔۔۔ ایک میٹنگ اٹینڈ کی ابھی ۔۔۔۔ دو ہوٹلز کا وزٹ کیا ۔۔۔۔ اب ایک اور میٹنگ فوڈ سپلائی چین کے ساتھ ۔۔۔" "ہممم" زجاجہ نے صرف اتنا ہی لکھا ۔۔۔ "اوکے زجی ۔۔۔۔ ول ٹاک ٹو یو لیٹر ۔۔۔۔فاران بھائی آئے ہیں ۔۔۔۔ ان کو ٹائم دے لوں ذرا ۔۔۔اپنا خیال رکھنا " وہ جتنا بھی مصروف ہو یہ جملہ لکھنا کبھی نہیں بھولتا تھا اور زجاجہ سکندر پر اپنا خیال رکھنا فرض ہو جاتا ۔۔۔۔ زجاجہ نے اوکے کا میسج کیا اور اٹھ گئی ۔۔۔۔ بوندا باندی شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔ موسم کے آثار بتا رہے تھے کہ بادل خوب ٹوٹ کے برسے گا ۔۔۔۔ "بوا میرے پیرٹ اندر لے آئیں پلیز ۔۔۔۔" بارش ایک دم سے تیز ہو گئی تھی ۔۔۔۔ زجاجہ بھاگتی ہوئی اندر آئی ۔۔۔۔ بوا نے اس کے رنگین طوطے لاؤنج میں رکھے تو وہ اٹھ کر ان کے پاس آ گئی ۔۔۔۔ ان کی اٹکھیلیاں دیکھتے ہوئے وہ ادھر لاؤنج میں ہی سو گئی ۔۔۔۔ ماما نے آ کر اسے جگایا تو اسے احساس ہوا کہ وہ 2 گھنٹے سے صوفے پر سو رہی تھی ۔۔۔۔ "ولی ٹھیک مجھے جھلی کہتے ہیں " اس نے بیڈ پر لیٹتے ہوئے سوچا ۔۔۔۔ اور ولید کے خیالوں میں نجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگلے دن وہ فری پیریڈ میں سٹاف روم میں بیٹھی تھی کہ ولید کا میسج آ گیا ۔۔۔۔ "میں جو نہیں آتا نظر تم کو تو کیسے آ جاتا ہے صبر تم کو " اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔۔۔۔ وہ تو شکر ہے کوئی سٹاف روم میں تھا نہیں ورنہ ابھی سب وجہ پوچھنے کے لئے اکٹھی ہو جاتیں ۔۔۔۔ اس نے اس آنکھیں صاف کیں اور میسج کا جواب دیا ۔۔۔ "ولی میری آنکھیں ترس گئی ہیں " جواب تو نہ آیا لیکن زجاجہ سے میلوں دور ایک ہوٹل کی کھڑکی کے پاس بیٹھے ایک شخص کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں ۔۔۔۔